تیرہویں فصل

نماز کی امامت ، خلافت کیلئے دلیل نہیں!

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد امت کی قیادت کا موضوع گزشتہ چودہ صدیوں سے عقائد اور مذاہب کے علماء اور دانشوروں کے درمیان مسلسل مورد بحث قرار پاتا رہا ہے ، لیکن آج تک ایک محقق بھی ایسا پیدا نہیں ہوا جو یہ توجیہ کرے کہ حضرت ابو بکر کی خلافت پیغمبر اسلام (ص) کی نص کے مطابق عمل میں آئی ہے اور یہ کہے کہ پیغمبر خدا صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں اپنی حیات میں لوگوں کو وصیت کی تھی۔
حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں سنی علماء کے تمام دلائل مہاجرین و انصار کی بیعت اور خلافت پر اتفاق نظر تک محدود ہیں اور یہ امر کہ حضرت ابو بکر کی خلافت پیغمبر اکرم (ص) کی نص کے مطابق نہیں تھی ، یہ بات خود سقیفہ میں حضرت ابو بکر اور ان کے ہمفکروں کے بیانات سے بالکل ظاہر اور واضح ہوجاتی ہے ۔ اگر حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں پیغمبر (ص) کی طرف سے کوئی نص موجود ہوتی تو وہ خود سقیفہ میں حضرت عمر اور ابو عبیدہ کا ہاتھ پکڑ کر ہر گز یہ نہ کہتے کہ : ” قد رضیت لکم ھذین الرجلین “ میں ان دو افراد کو خلافت کیلئے صالح اور شائستہ جانتا ہوں اور ان دونوں کے انتخاب پرراضی ہوں۔
اس کے علاوہ اگر حضرت ابو بکر کی خلافت کے سلسلے میں کوئی الٰہی نص موجود ہوتی ، تو سقیفہ میں قریش کی پیغمبر اسلام صلی اللهعلیہ و آلہ وسلم سے قرابت اور ان کی اسلام میں سبقت کے ذریعہ استدلال نہیں کیا جاتا اور ان کے دوست و ہم فکر کبھی حضرت ابو بکر کے پیغمبر (ص) کے ساتھ غار ثور میں ہم سفر ہونے اور نماز میں پیغمبر (ص) کی جانشینی جیسے مسائل سے اپنے استدلال کو تقویت نہ بخشتے۔
خود حضرت ابو بکر نے سقیفہ کے دن انصار کے امیدوار کی تنقید کرتے ہوئے کہا:
”ان العرب لا تعرف ھذا الامر الّا القریش اوسط العرب داراً و نسباً “، عرب معاشرہ قریش کے علاوہ __جو حسب و نسب کے لحاظ سے دوسروں پر برتری رکھتے ہیں __کسی کو خلافت کیلئے شائستہ نہیں جانتا ۔
اگر حضرت ابو بکر کی خلافت کے حق میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک لفظ بھی بیان ہوا ہوتا تو ان کمزور دلائل سے استدلال کرنے کے بجائے اس کا سہارا لیکر خود حضرت ابو بکر کہتے : اے لوگو! پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فلاں سال اور فلاں روز مجھے مسلمانوں کے پیشوا اور خلیفہ کے طور پر منتخب کیا ہے۔
یہ کیسے کہا جاسکتا کہ حضرت ابو بکر کی خلافت کو پیغمبر (ص) نے معین فرمایا ہے جب کہ وہ خود بیماری کی حالت میں تمنا کرتے تھے، کہ کاش میں نے پیغمبر اسلام (ص) سےیہ پوچھ لیا ہوتا کہ ”امت کی قیادت“ کا حقدار کون ہے؟
عالم اسلام کے مشہور مؤرخ ، طبری اس واقعہ کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” جب ابو بکر بیمار ہوئے اور قریش کا ایک معروف سرمایہ دار عبد الرحمان بن عوف ان کی عیادت کیلئے آیا تومقدماتی گفتگو کے بعد ابو بکر نے انتہائی افسوس کے ساتھ لوگوں کی طرف رخ کرکے کہا:
میری تکلیف کی پہلی وجہ وہ تین چیزیں ہیں جن کو میں نے انجام دیا ہے ، کاش میں نے انہیں انجام نہ دیا ہوتا ! اور تین چیزیں اور ہیں کہ کا ش میں نے ان کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا ہوتا ۔
وہ تین چیزں جنہیں کاش میں نے انجام نہ دیا ہوتا حسب ذیل ہیں :
۱۔ کاش فاطمہ (ص) کا گھر نہ کھلوایا ہوتا چاہے جنگ و جدال کی نوبت آجاتی ۔
۲۔ کاش میں نے سقیفہ کے دن خلافت کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر نہ لی ہوتی اور اسے عمر یا ابو عبیدہ کے سپرد کرکے خود وزیر و مشیر کے عہدہ پر رہتا ۔
۳۔ کاش ایاس بن عبد الله کو جو راہزنی کرتا تھا ، آگ میں جلانے کے بجائے تلوار سے قتل کرتا۔
اور وہ تین چیزیں جن کے بارے میں کاش میں نے پیغمبر اکرم (ص) سے پوچھ لیاہوتا یہ ہیں :
۱۔ کاش میں نے پوچھ لیا ہوتا کہ خلافت و قیادت کا حقدار کون ہے ؟ اور خلافت کا لباس کس کے بدن کے مطابق ہے؟
۲۔ کاش میں سوال کرلیا ہوتا کہ کیا اس سلسلے میں انصار کا کوئی حق بنتا ہے؟
۳ کاش میں نے پھوپھی اور بہن کی بیٹی کی میراث کے بارے میں پیغمبر اسلام(ص) سے دریافت کرلیا ہوتا! (۱)

نماز میں حضرت ابو بکر کی جانشینی

اہل سنت کے بعض علماء اور دانشوروں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کے دوران نماز میں حضرت ابو بکر کی جانشینی کے موضوع کو بڑی شدو مد سے نقل کیاہے اور اسے ایک بڑی فضیلت یا خلافت کے لئے سند شمار کرکے یہ کہنا چاہا کہ جب پیغمبر (ص) نماز میں ان کی جانشینی پر راضی ہوں تو لوگوں کو ان کی خلافت اور حکمرانی پر اور بھی زیادہ راضی ہونا چاہئے جو ایک دنیوی امر ہے۔
جواب :
یہ استدلال کئی جہتوں سے قابل رد ہے :
۱۔ تاریخی لحاظ سے کسی بھی صورت میں ثابت نہیں ہے کہ نماز میں حضرت ابو بکر کی جانشینی پیغمبر (ص) کی اجازت سے انجام پائی ہو ۔ بعید نہیں ہے کہ انہوں نے خود یا کسی کے اشارہ پر یہ کام انجام دیا ہو۔ اس امر کی تائید اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ حضرت ابو بکر نے ایک بار اور پیغمبر (ص) کی اجازت کے بغیر آپ (ص) کی جگہ کھڑے ہوکر نماز کی امامت خود شروع کردی تھی ۔
اہل سنت کے مشہور محدث امام بخاری اپنی صحیح میں نقل کرتے ہیں : ایک دن پیغمبر (ص) قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی طرف گئے تھے ۔ نماز کا وقت ہوگیا ابو بکر پیغمبر (ص) کی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور نماز کی امامت شروع کردی جب پیغمبر (ص) مسجد میں پہنچے اور دیکھا کہ نماز شروع ہوچکی ہے تو نمازکی صفوں کو چیرتے ہوئے محراب تک پہنچ گئے اور نماز کی امامت خود سنبھال لی اور ابو بکر پیچھے ہٹ کر بعد والی صف میںکھڑے ہوئے۔ (۲)
۲۔ اگر ہم فرض کرلیں کہ حضرت ابو بکر نے پیغمبر (ص) کے حکم سے آپ (ص) کی جگہ پر نماز پڑھائی ہوگی تو نماز میں امامت کرنا ہرگز حکومت اور خلافت جیسی انتہائی اہم ذمہ داری کی صلاحیت کیلئے دلیل نہیں بن سکتا ۔
نماز کی امامت کیلئے قرائت کے صحیح ہونے اور احکام نماز جاننے کے علاوہ کوئی اور چیز معتبر نہیں ہے ( اور اہل سنت علماء کی نظر میں عدالت تک کی شرط نہیں ہے ) لیکن خلافت اسلامیہ کے حاکم کیلئے سنگین شرائط ہیں جن میں سے کسی ایک شرط کو نماز کی امامت کیلئے ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے ،جیسے :
اصول اور فروع دین پر مکمل دسترس اور کامل آگاہی رکھنا۔
احکام اور حدود الٰہی کے تحت مسلمانوں کے امور کو چلانے کی پوری صلاحیت رکھنا ۔
گناہ اور خطا سے مبرّا ہونا ․ ․ ․ ․ ․
اس استدلال سے پتا چلتا ہے کہ استدلال کرنے والے نے امامت کے منصب کو ایک معمولی منصب تصور کرلیا ہے اور اس سے پیغمبر (ص) کی جانشینی کوایکعام حکمرانی کے سوا کچھ اور نہیں سمجھا ہے اسی لئے وہ کہتا ہے کہ : جب پیغمبر (ص) نے ابو بکر کو دینی امر کیلئے منتخب کرلیا تو لازم اور ضروری ہے کہ ہم ان کی خلافت پر اور بھی زیادہ راضی ہوں ، جو ایک دنیوی امر ہے۔
اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کہنے والے نے اسلامی حکمرانی سے وہی معنی مراد لیا ہے جو دنیا کے عام حکمرانوں کے بارے میں تصور کیا جاتا ہے ۔ جبکہ پیغمبر (ص) کا خلیفہ ظاہری حکومت اور مملکت کے امور کو چلانے کے علاو کچھ ایسے معنوی منصبوں اور اختیارات کا بھی مالک ہوتا ہے جو عام حکمراں میں نہیں پائے جاتے اور ہم اس سلسلے میں اس سے پہلے مختصر طور پر بحث کرچکے ہیں۔
۳۔ اگر نماز کیلئے حضرت ابو بکر کی امامت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے انجام پائی تھی ، تو پیغمبر اکرم (ص) بخار اور ضعف کی حالت میں ایک ہاتھ کو حضرت علی (ع) کے شانے پر اور دوسرے ہاتھ کو ” فضل بن عباس “ کے شانے پر رکھ کر مسجد میں کیوں داخل ہوئے اور حضرت ابو بکر کے آگے کھڑے ہوکر نماز کیوں پڑھائی؟ پیغمبر کا یہ عمل امامت کیلئے حضرت ابو بکر کے تعین سے میل نہیں کھاتا۔اگر چہ اہل سنت علماء نماز میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شرکت کی اس طرح توجیہ کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے پیغمبر اکرم (ص) کی اقتداء کی اور لوگوں نے ابو بکر کی اقتداء کی ۔ اسی صورت میں نما زپڑھی گئی (۳)
واضح ہے کہ یہ توجیہ بہت بعید اور ناقابل قبول ہے ، کیونکہ اگر یہی مقصود تھا تو کیا ضرورت تھی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس ضعف و بخار کی حالت میں اپنے چچیرے بھائیوں کا سہارا لیکر مسجد میں تشریف لا تے اور نماز کیلئے کھڑے ہوتے؟ بلکہ اس واقعہ کا صحیح تجزیہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اپنی اس کاروائی سے حضرت ابو بکر کی امامت کو توڑ کر خود امامت کرنا چاہتے تھے۔
۴۔ بعض روایتوں سے پتا چلتا کہ کہ نماز کیلئے حضرت ابو بکر کی امامت ایک سے زیادہ بار واقع ہوئی ہے اور ان سب کا پیغمبر کی اجازت سے ثابت کرنا بہت مشکل اور دشوار ہے کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے بیماری کے آغاز میں ہی اسامہ بن زید کے ہاتھ میں پرچم دیکر سب کو رومیوں سے جنگ پر جانے اور مدینہ ترک کرنے کا حکم دے دیا تھا ۔ اور لوگوں کے جانے پر اس قدر مصر تھے کہ مکرر فرماتے تھے :
”جھّزو جیش اسامة “اسامہ کے لشکر کو تیار کرو۔
اورجو افراد اسامہ کے لشکر میں شامل ہونے سے انکار کررہے تھے ، آپ (ص) ان پر لعنت بھیج کر خدا کی رحمت سے محروم ہونے کی دعا فرماتے تھے (۴)
ان حالات میں پیغمبر (ص) ابوبکر کو امامت کے فرائض انجام دینے کی اجازت کیسے دیتے ؟!
۵۔ مؤرخین اور محدثین نے اقرار کیا ہے کہ جس وقت حضرت ابو بکر نماز کی امامت کرنا چاہتے تھے ، پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت عائشہ ، ابو بکر کی بیٹی سے فرمایا:
”فانّکنّ صواحب یوسف“
” تم مصر کی عورتوں کے مانند ہو جنہوں نے یوسف (ع) کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا“
اب دیکھنا چاہئے کہ اس جملہ کا مفہوم کیا ہے، اور اس سے پیغمبر (ص) کا مقصد کیا تھا؟
یہ جملہ اس امر کی حکایت کرتا ہے کہ حضرت عائشہ پیغمبر اکرم (ص) کی تنبیہ کے باوجود اسی طرح خیانت کی مرتکب ہوئی تھیں ، جس طرح مصر کی عورتیں خیانت کی مرتکب ہوئیں تھی اور زلیخا کو عزیز مصر سے خیانت کرنے پر آمادہ کرتی تھیں۔
جس خیانت کے بارے میں یہاں پر تصور کیا جاسکتا ہے ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ حضرت عائشہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی اجازت کے بغیر اپنے باپ کو پیغام بھیجا تھا کہ پیغمبر (ص) کی جگہ پر نماز پڑھائیں۔
اہل سنت کے علماء ، پیغمبر اسلام (ص) کے اس جملہ کی دوسرے انداز میں تفسیر کرتے ہیں اور کہتے ہیں :
پیغمبر (ص) اصرار فرماتے تھے کہ حضرت ابو بکر آپ (ص) کی جگہ پر نماز پڑھائیں ، لیکن حضرت عائشہ راضی نہیں تھیں ، کیونکہ وہ کہتی تھیں کہ لوگ اس عمل کو فال بد تصور کریں گے اور حضرت ابو بکر کی نما زمیں امامت کو پیغمبر (ص) کی موت سے تعبیر کریں گے اور حضرت ابو بکر کو پیغمبر (ص) کی موت کا پیغام لانے والا تصور کریں گے “
کیا یہ توجیہ پیغمبر اسلام کے عمل ( مسجد میں حاضر ہوکر امامت کو سنبھالنے ) سے میل کھاتی ہے؟!!
یہاں پر میں اپنی بات تمام کرتے ہوئے اس قضیہ کی صحیح نتیجہ گیری کا فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں۔


۱۔ تاریخ طبری ،ج۳ ، ص ۲۳۴ ۔
۲۔ صحیح بخاری ج ۲، ص ۲۵۔
۳۔ صحیح بخاری ، ج ۲، ص ۲۲۔
۴۔ شرح نہج البلاغہ،ابن ابی الحدید ، ج ۶، ص ۵۲ ، نقل از : کتاب السقیفہ ، تالیف ابو بکر احمد بن عبد العزیز جوہری۔