بارہویں فصل


انصار اور مہاجرین کی منطق کیا تھی؟

سقیفہ کے واقعہ کے بغور مطالعہ کے بعد اب مناسب ہے کہ اس کے قابل توجہ نکات اور اسے وجود میں لانے والوں کی منطق پر غور کیا جائے ۔ اس ”جلسہ “ کے قابل توجہ نکات کا خلاصہ ذیل کے چند امور میں کیا جا سکتا ہے :
۱۔ قرآن مجید کا حکم ہے کہ مؤمن آپس میں جمع ہو کر اپنے مشکلات کی گتھیوں کو تبادلہ خیال کے ذریعہ سلجھائیں۔ اس کے اس گراں بہا حکم کا مقصد یہ ہے کہ عقلمند اور حق پسند لوگوں کی ایک جماعت ایک پر سکون جگہ پر جمع ہوں اور حقیقت پسندانہ نیز تعصب سے عاری غور و فکر کے ذریعہ زندگی کی راہ کو روشن کریں اور مسائل کو حل کریں۔
کیا سقیفہ کے جلسہ میں ایسا رنگ ڈھنگ پایا جاتا تھا؟ اور کیا حقیقت میں اسلامی معاشرے کے عقلا وہاں پر جمع ہوئے تھے کہ خلافت کی گتھی کو گفتگو کے ذریعہ حل کریں؟ یا مطلب اس کے بالکل بر عکس تھا؟
اس جلسہ میں مہاجرین میں سے صرف تین افراد حاضر تھے اور ان تین افراد نے دیگر مہاجرین کو اس امر سے مطلع نہیں کیا تھا کہ وہ یہ کام انجام دینے جارہے ہیں ۔ کیا ایسے جلسہ کو جس میں عالم اسلام کی عظیم شخصیتیں ، جیسے علی (ع) ابن ابیطالب ، سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد ، حذیفہ ، ابی بن کعب ، طلحہ و زبیر اور ان جیسی دسیوں شخصیتیں موجود نہ ہوں عالم اسلام کیلئے صلاح و مشورہ اور تبادلہ خیا کا جلسہ کہا جاسکتا ہے ؟
کیا یہ صحیح تھا کہ ایک ایسے اہم موضوع کے لئے ایک چھوٹی سی میٹینگ پر اکتفا کی جاتی جس میں چیخ و پکار اور داد و فریاد بلند کی گئی اور انصار کے امیدوار کو قدموں تلے کچل ڈالا گیا ؟! یا یہ کہ ایسے اہم موضوع کے بارے میںکئی جلسے منعقد کرنا ضروری تھا جن میں عالم اسلام کی اہم مدبر اور شائستہ شخصیتیں بیٹھ کر اس اہم مسئلہ پر صلاح مشورہ کریں اور بالآخر اتفاق نظر یا اکثریت آراء سے مسلمانوں کا خلیفہ منتخب کیا جاتا ؟
اس جلد بازی کے ساتھ حضرت ابو بکر کو خلافت کیلئے منتخب کرنا اس قدر ناپختہ اور خلاف اصول تھا کہ ، بعد میں خود حضرت عمر اس سلسلے میں کہتے تھے:
”کانت بیعۃ ابی فلتۃ وقی اللہ شرّھا فمن دعاکم الی مثلھا فاقتلوہ“ (۱)
”یعنی خلافت کیلئے ابو بکر کا انتخاب ایک اتفاق سے زیادہ نہیں تھا او یہ کام صلاح ومشورہ اور تبادلہ خیال کی بنیاد پر انجام نہیں پایا ، اب جو کوئی بھی تم لوگوں کو ایسے کام کی دعوت دے، اسے قتل کرڈالو“
۲۔ دوسرا قابل توجہ نکتہ خود اہل سقیفہ کی منطق ہے ۔
گروہ مہاجر کا استدلال غالباً دو چیزوں کے گرد گھوم رہا تھا : ایک ان کا خدا و پیغمبر اسلا م(ص) پر ایمان لانے میں پیش قدم ہونا اور دوسرا پیغمبر اسلام سے ان کی قرابت و رشتہ داری! اگر ان کی برتری کا معیار یہی دو چیزیں تھیں تو خلافت کیلئے حضرت ابو بکر کو حضرت عمر و ابو عبیدہ کا ہی سہارا نہیں لینا چاہئے تھا، کیونکہ مدینہ میں اس وقت ایسے افراد بھی موجود تھے جو ان دو افراد سے بہت پہلے دین اور توحید پر ایمان لا چکے تھے اور پیغمبر اسلام (ص) سے نزدیکی قرابت بھی رکھتے تھے۔
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والے پہلے شخص تھے اور پیدائش کے دن سے ہی آپ (ص) کے دامن مبارک میں تربیت پائے ہوئے تھے اور رشتہ داری کے لحاظ سے بھی آپ (ص) کے چچیرے بھائی اور داماد تھے ۔ اس کے باوجود کس طرح ان تین افراد نے خلافت کی گیند کو ایک دوسرے کی طرف پاس دیتے ہوئے بالآخر اسے حضرت ابو بکر کے حوالے کر دیا؟! عمر نے ابو بکر کی برتری کی توجیہ ان کی دولت مندی ،غار ثور میں رسول اللہ کی ہمراہی ، اور پیغمبر(ص) کی جگہ پر نماز پڑھنے کے ذریعہکی۔
دولت مند ہونے کے بارے میں کیا کہا جائے ، یہ وہی ایام جاہلیت کی منطق ہے جب دولت اور ثروت کو برتی و فضیلت کا سبب جانتے تھے ۔ مشرکین کا ایک اعتراض یہی تھا کہ یہ قرآن مجید کیوں ایک دولتمند فرد پر نازل نہیں ہوا (۲)
اگر رسول خدا کے ساتھ غار ثور میں ہمسفر ہونا خلافت کیلئے شائستگی اور معیار ہوسکتا ہے تو امیرالمؤمنین (ع) کو خلافت کیلئے اس سے بھی زیادہ شائستہ و حقدار ہونا چاہئے۔کیونکہ آپ (ع) شب ہجرت اپنی جان پر کھیل کر پیغمبر اسلام (ص) کے بسترہ پر سوئے تھے مفسرین کا اتفاق ہے کہ درج ذیل آیت آپ (ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے :
<وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ وَاللہرَءُ وفٌ بِالْعِباَدِ>
اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے ۔ (۳)
آنحضرت (ص) کی بیماری کے دوران پیغمبر (ص) کی جگہ حضرت ابو بکر کا نماز پڑھانا ، بذات خود ایک نامشخص اور مبہم داستان ہے اور یہ بات ثابت ہی نہیں کہ وہ نماز پڑھانے میں کامیاب بھی ہوئے کہ نہیں؟اور یہ کام پیغمبر (ص) کی اجازت سے انجام پایا تھا یا ایک من مانی حرکت تھی اور پیغمبر کی بعض بیویوں کے اشارہ پر نماز میں پیغمبر کی جانشینی پر قبضہ کرنے کی کوشش تھی ؟! ( اس بحث کی تفصیل آیندہ فصلوں میں ملاحظہ فرمائیں)
بہر حال اگر یہی امر امت اسلامیہ کی خلافت کی شائستگی کیلئے دلیل ہو ، تو پیغمبر (ص) بارہا مسافرت کے وقت اپنی جانشینی کی ذمہ داری من جملہ نماز کی امامت بعض افراد کو سونپتے رہے ہیں ۔ ایسے افراد کا سراغ حیات پیغمبر (ص) کی تاریخ میں ملتا ہے ، یہ کیسے ممکن ہے کہ ان سب جانشینوں میں سے صرف ایک آدمی ، وہ بھی صرف ایک نماز پڑھانے کی وجہ سے باقی لوگوں پر پیغمبر کی جانشینی کا حقدار بن جائے ؟
۳۔ شریعت کے اصول و فروع کا علم رکھنا ، اسلامی معاشرے کی تمام ضرورتوں سے باخبر ہونا اور گناہ و خطا سے پاک ہونا ، امامت و رسول خدا (ص) کی جانشینی کی دو بنیادی شرطیں ہیں ، جبکہ سقیفہ کے جلسہ میں اگر کسی چیز پر گفتگو نہیں ہوئی تو وہ یہی دو موضوع تھے۔
کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ یہ لوگ قومیت ، رشتہ داری اور دیگر بیہودہ معیاروں پر انحصار کرنے کے بجائے علم و دانش اور عصمت اور پاک دامنی کے موضوع کو معیار قرار دے کر اصحاب پیغمبر (ص) میں سے امت کی زعامت کیلئے ایک ایسے شخص کا انتخاب کرتے جو دین کے اصول و فروع سے بخوبی واقف ہو اور ابتدائے زندگی سے اس لمحہ تک اس سے کوئی غلطی سرزد نہ ہوئی ہو ؟ اس طرح خود خواہی کے بجائے اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو مد نظر رکھا جاتا ؟
۴۔ ان دونوں گروہوں کے استدال کے طریقے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ پیغمبر (ص) کی خلافت و جانشینی سے ظاہری حکومت اور لوگوں پر فرماں روائی کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رکھتے تھے۔ انھوں نے پیغمبر اسلام (ص) کے دیگر منصبوں سے چشم پوشی کر رکھی تھی اور ان کی طرف کوئی توجہ نہیں رکھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ انصار ، افراد کی کثرت اوراپنے قبیلہ کی طاقت پر ناز کرتے ہوئے اپنے کو دوسروں پر فضیلت دیتے اور حقدار سمجھتے تھے۔
یہ صحیح ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) مسلمانوں کے حاکم اور فرماں روا تھے ، لیکن آپ (ص) اس مقام و منزلت کے علاوہ کچھ دوسرے فضائل اور منصبوں کے بھی مالک تھے کہ مہاجر و انصار کے امیدوارں میں ان کا شائبہ تک نہیں ملتا تھا ۔ پیغمبر اسلام (ص) شریعت کی تشریح کرنے والے ، اصو ل و فروع کو بیان کرنے والے ، اور گناہ و لغزش کے مقابلے میںمعصوم تھے۔ ان افراد نے پیغمبر (ص) کی جانشینی کا انتخاب کرتے وقت پیغمبر اسلام (ص) کی ان معنوی فضیلتوں کو کیسے نظر انداز کردیا جن کی وجہ سے آپ (ص) اسلامی معاشرہ میں برتر اور حکمراں قرار پائے تھے بلکہ اسے ظاہری و سیاسی حکومت کے زاویہ سے دیکھا جو عموماً دولت ، قدرت اور قبائلی قرابت کی بنیادوں پر قائم ہوتی ہے ۔
اس غفلت یا تغافل کی وجہ واضح ہے ، کیونکہ اگر اسلامی خلافت کو اس زاویہ سے دیکھتے تو انھیں اپنے آپ کو خلافت سے محروم کرنے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ملتا۔ اس لئے کہ دین کے اصول و فروع سے ان کی آگاہی بہت محدود تھی، حتی حضرت ابو بکر کا مجوزہ امیدوار (حضرت عمر) سقیفہ کی میٹینگ سے تھوڑی ہی دیر پہلے پیغمبر اسلام (ص) کی وفات کا منکر ہوچکا تھا اور اپنے ایک دوست کی زبانی قرآن مجید کی آیت (۴) سننے کے بعد خاموش ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ حکمرانی کے دوران اور اس سے پہلے بھی ان لوگوں کی بے شمار غلطیاں اور خطائیں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔ ان حالات کے پیش نظر کیسے ممکن تھا کہ وہ ایک ایسی حکومت کی داغ بیل ڈال سکیں جس کی بنیاد علم و دانش ، تقویٰ و پرہیزگاری ، معنوی کمالات اور عصمت پر مستحکم ہو؟!

اصحاب سقیفہ کی منطق پر امیر المؤمنین کا تجزیہ


امیر المؤمنین علیہ السلام نے سقیفہ میں موجود مہاجرین و انصار کی منطق پر یوں تنقید فرمائی :
جب ایک شخص نے امام (ع) کی خدمت میں آکر سقیفہ کا ماجرا بیان کیا کہ : مہاجر و انصار کے دو گروہ اپنے آپ کو خلافت کا حقدار سمجھ رہے تھے تو علی علیہ السلام نے فرمایا:
”تم نے انصارکوجواب کیوںنہ دیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے کہا ہے کہ ہم ان کے نیک افراد کے ساتھ نیکی کریںاور ان کے خطاکاروں کی تقصیر معاف کردیں“۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے پوچھا : قریش کس اصول پر اپنے آپ کو خلافت کا حقدار سمجھتے تھے ؟ اس شخص نے جواب دیا : وہ کہتے تھے ہمارا تعلق رسول خدا (ص) کے خاندان سے ہے اور ہمارا اور آپ (ص) کا قبیلہ ایک ہی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: انہوں نے درخت سے اپنے لئے استدلال کیا اور اس کے پھل اور میوہ کو ضایع و برباد کردیا ۔ اگر وہ اسی لحاظ سے خلافت کے حقدار ہیں تو وہ ایک درخت کی ٹہنیاں ہیں اور میں اس درخت کا پھل اور آنحضرت (ص) کا چچیرا بھائی ہوں ، پھرخلا فت کا حقدار میں کیوں نہیں ہوں (۵)

امیر المؤمنین کی خلافت کیلئے خود شائستہ ہونے کی منطق

سقیفہ کا ماجر انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں اختتام کو پہنچا اور حضرت ابو بکر ایک فاتح کی حیثیت سے جلسہ سے باہر نکلے ، کچھ لوگ انہیں اپنے گھیرے میں لئے ہوئے تھے اور لوگوں سے کہتے تھے : رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ کی بیعت کرواور بیعت کو عمومی بنانے کیلئے لوگوں کے ہاتھ پکڑ پکڑ کر حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر رکھتے تھے۔
ان ناگفتہ بہ حوادث کے تحت کہ یہاں پرہم ان کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں ، حضرت علی (ص) کو مسجدمیں لایا گیا تا کہ وہ بھی بیعت کریں ۔
امام علیہ السلام نے خلافت کیلئے اپنی شائستگی اور سنت رسول (ص) سے متعلق اپنے وسیع علم اور عدالت کی بنیادوں پر حکومت کرنے کی اپنی روحی توانائی و صلاحیت کے ذریعہ خلافت کیلئے اپنی لیاقت و شائستگی پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا:
” اے گروہ مہاجر ! جس حکومت کی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنیاد ڈالی ہے ، اسے آنحضرت کے خاندان سے خارج کرکے اپنے گھروں میں نہ لے جاؤ ۔ خدا کی قسم ہم اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ ہمارے درمیان ایسے افراد موجود ہیں جو قرآن مجید کے مفاہیم کا مکمل علم رکھتے ہیں ۔ دین کے اصول اور فروع کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے اچھی طرح آگاہ ہیں ، اور اسلامی سماج کو بخوبی ادارہ کرسکتے ہیں ۔ برائیوں کی روک تھام کرسکتے ہیں اور غنائم کو عادلانہ تقسیم کرسکتے ہیں ۔
جب تک معاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں دوسروں کی باری نہیں آتی ، ایسا شخص خاندان نبوت (ص) سے باہر کہیں نہیں مل سکتا ۔ خبردار ! ہویٰ و ہوس کے غلام نہ بنو کیونکہ اس طرح راہ خدا سے بھٹک جاؤ گے اور حق و حقیقت سے دور ہوجاؤ گے ! (۶)
شیعہ روایات کے مطابق ، امیر المؤمنین (ص) بنی ہاشم کے ایک گروہ کے ہمراہ حضرت ابو بکر کے پاس گئے اور خلافت کے لئے مذکورہ صورت میں قرآن و سنت سے متعلق اپنے علم ، اسلام میں سبقت اور جہاد میں ثابت قدمی ، بیان میں فصاحت و بلاغت ، شہامت اور شجاعت کو دلائل کے طور پر پیش کرکے اپنی شائستگی کو ثابت کیا اور فرمایا :
” میں پیغمبر اسلام کی حیات اور آپ (ص) کی وفات کے بعد منصب خلافت کا مستحق اور سزاوار ہوں ، میں اسرار کا خزانہ اور علوم کا مخزن ہوں ۔ میں صدیق اکبر اور فاروق اعظم ہوں ۔
میں پہلا شخص ہوں جو پیغمبر پر ایمان لایا اس راہ میں آپ کی تصدیق کی ۔ میں مشرکین کے ساتھ جنگ و جہاد کے دوران سب سے زیادہ ثابت قدم ، کتاب و سنت کےعلم سے سب سے زیادہ آگاہ ، دین کے اصول و فروع سے سب سے زیادہ واقف ، بیان میں سب سے زیادہ فصیح اور ناخوشگوار حالات میں سب سے زیادقوی اور بہادر فرد ہوں ، تم لوگ اس وراثت میں میرے ساتھ جنگ و جدال پر کیوں اتر آئے ہو ۔ (۷)
اسی طرح امیر المؤمنین (ص) اپنے ایک خطبہ میں خلافت کا حقدار ایسے شخص کو سمجھتے ہیں جو امت میں حکومت چلانے کیلئے سب سے بہادر حکم الٰہی کو سب سے زیادہ جاننے والا ہو :
”ایھا الناس انّ احق الناس بھذا الامر اقواھم علیہ و اعلمھم بامر اللہ فیہ فان شغب شاغب استعتب فان بی قوتل “ (۸)
یعنی اے لوگو! حکومت کیلئے سب سے شائستہ فرد وہ ہے جو ، سماج کا نظام چلانے میں سب سے زیادہ طاقت ور اور حکم الہی کو جاننے میں سب سے زیادہ عالم ہو۔ اگر کوئی شخص فساد کو ہوا دے اور وہ حق کے سامنے تسلیم نہ ہو تو اس کی تنبیہ کی جائے گی اور اگر اپنی غلطی کو جاری رکھے تو قتل کیا جائے گا- ۔
یہ صرف حضرت علی علیہ السلام کی منطق نہیں ہے بلکہ آپ (ع) کے بعض مخالفین بھی جب بیدار ضمیر کے ساتھ بات کرتے ہیں تو خلافت کیلئے حضرت علی (ع) کی شائستگی کا اعتراف کرتے ہیں کہ آپ کا حق چھین لیا گیا ۔
جب ابو عبیدہ جراح حضرت ابوبکر کی بیعت سے حضرت علی علیہ السلام کے انکار کے بارے میں آگاہ ہوئے تو امام علیہ السلام کی طرف رخ کرکے بولے :
” حکمرانی کو ابو بکر کیلئے چھوڑ دیجئے ، اگر آپ زندہ رہے اور طولانی عمر آپ کو نصیب ہوئی تو آپ حکمرانی کیلئے سب سے شائستہ ہیں کیونکہ آپ کی فضیلت ، قوی ایمان ، وسیع علم ، حقیقت پسندی ، اسلام قبول کرنے میں پیش قدمی اور پیغمبر اسلام کے ساتھ آپ کی قرابت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے (۹)


۱۔سیرہ ابن ھشام ، ج۴، ۳۰۸۔ ارشاد شیخ مفید ، ص ۲۶۰
۲۔<قالوا لَوْ لَا نُزِّلَ ھٰذَا القُرْء انُ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیمٍ> ( زخرف / ۳۱) و نیز رجوع کریں اسراء /۹۰ ۔۹۱)
۳۔ بقرہ / ۲۰۷۔
۴۔ < وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ اٴَفَإِنْ مَاتَ اٴَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَٰی اٴَعْقَٰبِکُمْ> ( آل عمران ۱۴۴)
۵۔ ”احتجوا بالشجرۃ و اضاعوا الثمرۃ “( نہج البلاغہ خطبہ ۶۴)
۶۔ اللہ اللہ یا معشر المہاجرین لا تخربوا سلطان محمّد فی العرب عن دارہ و قعر بیتہ الی دورکم و قعور بیوتکم و لا تدعوا اٴھلہ عن مقامہ فی الناس و حقّہ ، فو اللہ یا معشر المھاجرین لنحن اٴحق الناس بہ ، لاٴنا اٴھل البیت و نحن اٴحقّ بھذا الاٴمر منکم ما کان فینا القاری لکتاب اللہ، الفقیہ فی دین اللہ ، العالم بسنن اللہ، المضطلع باٴمر الرعیۃ ، المدافع عنھم الاٴُمور السیئّۃ ․ القسم بینھم با لسویۃ، و اللہ انّہ لفینا ، فلا تتبعو الھوی فتضلوا عن سبیل اللہ فتزدادوا من الحقّ بعداً “ ( الامامۃ و السیاسۃ ، ابن قتیبہ دینوری ، ج۱ ، ص ۱۲ ، احتجاج طبرسی ، ج۱ ، ص ۹۶)
۷۔ اٴنا اٴولی برسول اللہ حیاً و میّتاً و اٴنا وصیّہ و وزیرہ و مستودع سرّہ و علمہ ، و اٴنا الصّدیق الاٴکبر و الفاروق الاٴعظم، اٴوّل من آمن بہ و صدّقہ ، واٴحسنکم بلاءً فی جھاد المشرکین، و اٴعرفکم بالکتاب و السنۃ ، اٴفقھکم فی الدین و اعلمکم بعواقب الاٴمور و اٴذر بکم لساناً و اٴثبتکم جناناً فعلام تنازعو فی ھذا الاٴمر ( احتجاج طبرسی ، ج ۱۲ ، ص ۹۵)
۸۔ نہج البلاغہ، عبدہ ، خطبہ ۱۶۸۔
۹۔ الامامۃ و السیاسۃ، ج ۱ ص ۱۲