۳)۔ حضرت امام عصر(عج) کے لئے نماز اوردعاء توجہ
احمد بن ابراہیم کہتے ہیں : میرے مولا حضرت امام عصر ارواحنا فداہ کے
دیدار کی آرزو نے دل میں کروٹیں لی چنانچہ میں نے جناب ابو جعفر محمد
بن عثمان سے جو نواب اربعہ میں سے تھے شکوہ کیا ۔
جناب محمد بن عثمان نے فرمایا کیا تمہاری یہ دلی تمنا ہے کہ حضرت (عج)
کی زیارت کرو۔
ہم نے کہا :ہاں ،
انھوں نے کہا : پروردگار عالم تمہیں اس قلبی آرژو کا ثواب عطا فرمائے
تمہارے انجام کو بخیر پاتا ہوں ، اے اباعبداللہ، ان کے دیدارکے لئے
التماس نہ کرو، اس لئے کہ غیبت کبریٰ کے زمانہ میں ان کے دیدار کا
اشتیاق پایا جاتا ہے لیکن ان کے ساتھ اجتماع کے متعلق سوال نہیں ہونا
چاہئے ۔(۱)
اس لئے کہ یہ آیات اور عزائم الٰہی میں سے ہے اور اس کو تسلیم کرلینا
ہی بہتر ہے ،لیکن جب بھی ان کی طرف توجہ کرنا چاہو تو اس زیارت کے
ذریعہ حضرت سے توجہ پیدا کرو ۔
بارہ رکعت نماز دو دو رکعت کرکے پڑھو اور ساری رکعتوں میں قل ھواللہ
پڑھو پھر محمدو آل محمد (علیہم السلام) پر صلوات بھیجو اور پروردگار
عالم کے اس قول کو دہراؤ :

(۱)۔ ظاہر سی بات ہے کہ محمد بن ابراہیم کا نصیب اور قسمت یہی تھی اور
اس حکم کے اندر سب کو شامل نہیں کیا جاسکتا،اس لئے کہ ایک دوسرے شخص نے
دیدار کی درخواست کی اور اس کی تمنا پوری ہوئی۔
زہری کا بیان ہے :ایک مد ت سے حضرت(عج) کی جستجو میں تھا اور اس راہ
میں بہت کوشش کی اور اس راہ میں بہترین سرمایہ میں نے لگاڈالا حضرت(عج)
کے نائب جناب عمری کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کی خدمت کے لئے کمر ہمت
کس لی ،میں نے ان کی خدمت میں کوئی کمی نہ کی اور ان کا نوکر بن گیا ،
ایک مدت کے بعد ان سے حضرت صاحب الزمان (عج)کے دیدار کے متعلق سوال کیا
۔
تو انھوں نے کہا : اس مسئلہ کے لئے کوئی راستہ نہیں ہے ، میں نے التماس
کیا اور گڑگڑا کر اس بات پر اصرار کیا۔
انھوں نے کہا کل صبح آجانا،دوسرے دن صبح میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا
انھوں نے میرا استقبال کیا ان کے ہمراہ ایک جوان تھا ،جس کا چہرہ سب سے
زیادہ خوبصورت تھا اور اس کے پاس سے بہترین خوشبو آرہی تھی ،ان کا لباس
تاجروں کی طرح تھا ، جب میری نگاہ اس کے جمال بے مثال پر پڑی توعمری سے
قریب ہوگیا ، عمری نے مجھے اشارے سے ان کی طرف جانے کو کہا، میں نے ان
کی طرف رخ کرکے کئی سوال کئے میرے ہر سوال کا انھوں نے جواب دیا، پھر
وہ اٹھے اور ایک کمر ے کی طرف بڑھے ، جہاں زیادہ رفت وآمد نہیں کی جاتی
تھی ، عمری نے مجھ سے کہا: جوپوچھنا ہے پوچھ لو کہ اس روز کے بعد تم ان
کا دیدار نہیں کرپاؤ گے۔ الاحتجاج ج۲ص۲۹۷
(۲)۔ بحار الانوار ج ۵۳ص۱۷۴،انشاء اللہ ہم اس زیارت کو ”باب زیارت “
میں بیان کریں گے۔ |