․غیبت کے زمانہ کے فرائض پر توجہ

گرچہ ہم نے اس کتاب کو پروردگارعالم کی توفیق اور حضرت بقیت اللہ ارواحنا فداہ کے لطف سے زمانہ غیبت کے ایک اہم فریضہ یعنی امام (عج) کے ظہور کی تعجیل کے لئے دعا کے متعلق تالیف کیا ہے لیکن شائستہ ہے اس کے مقدمہ میں اس تاریک دور اور پر آشوب زمانہ غیبت میں بعض دیگر فرائض کا بھی ذکر کریں گرچہ آرزو ہے ہمارے ہی زمانہ میں غیبت سے پردہ اٹھ جاے ․ اس لئے کہ جو روایتیں ائمہ اطہار علیہم السلام سے وارد ہوئی ہیں اس کے مطابق ہر صبح و شام آنحضرت (عج)کا ظہور متوقع ہے اور ہم کو چاہئے کہ منتظر رہیں۔
افسوس کہ اس سے متعلق کوئی جامع کتاب جس میں غیبت کے زمانہ کے تمام فرائض کی تفصیل درج ہو افراد کے ہاتھ نہیں لگی ہے اور اس باب میں جو گرانقدر کتابیں لکھی گئی ہیں وہ صرف غیبت کے تاریک زمانہ میں چند وظائف پر مشتمل ہیں ان میں بھی سب کا ذکر نہیں ہے۔
اور اگر لوگ روز اول اپنی زبوںحالی و تباہی کی طرف متوجہ ہوجاتے تو عصر ظلمت اتنا طولانی نہ ہوتا۔
بہر حال سبھی لوگ بالا خص وہ افراد جن کا فریضہ تھا کہ اس طرح کے مسائل بیان کریں اور اس سے انھوں نے غفلت کی اور تغافل سے کام لیا انھیں شدت سے غمگین اور شرمندہ ہونا چاہئے ۔
کیا مناسب ہے کہ امیر عالم ہستی جو اس منظومہ میں بلکہ تمام منظومئہ کائنات اورکہکشانوں میں ہماری ضرورتوں سے واقف ہے ہمارے درمیان ہو اور ہم اس سے غافل ہوں؟
کیا زیبا ہے کہ اربوں انسانوں کے ذہن نور خدا کے پنہاں ہونے کی وجہ سے اسی طرح پردئہ ظلمت میں باقی رہیں ؟
کیا شائستہ ہے اربوں انسانوں میں سے ہرایک بنام قلب کوئی شیٴ اپنے ہمراہ رکھتا ہو اور اس کی عظمت سے بے خبر ہو ۔
کس زمانہ میں قلوب اپنی حقیقی زندگی کی راہ میں دھڑکیں گے اور حقیقی انسانی زندگی کی عظمت سے آشنا ہو سکیں گے ؟
کس زمانہ میں انسانی مغز کے تمام خاکی خلیے (cells)متحرک ہوں گے ؟ اور انسانی سماج لامحدود دانش کی وسعتوں سے سر شار ترقی کی راہ طے کرےگا ؟
کس زمانہ میں نور خدا سے آشنائی کی بنا پر تیرگی ‘ اندھیرے ‘استبداد‘اور ستم کا خاتمہ ہوگا اور الہٰی حکومت کے زیر سایہ عالمی انصاف کا دن دیکھ سکیں گے ؟ اور کیا یہ سب کچھ حضرت بقیۃ اللہ کی حکومت کے سوا کہیں اور ممکن ہے ؟ اگر ہے تو کیوں ہم اس کا جلوہ نہیں دیکھتے ؟ اور کیوں اس زمانہ کے اندھیرے کا رونا روتے ہیں ؟ کیوں عالم کے مستقبل سے آگاہ نہیں ہیں ؟ (۱) اور کیوں عصرغیبت میںاپنے وظیفے پر عمل نہیں کرتے ؟

امام زمانہ ارواحنا فداہ کی غیبت کا عادی ہوجانا

ان سارے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو زمانہ غیبت کا عادی بنا لیا ہے اور تیرگی و تاریکی سے مانوس ہوگئے ہیں اور عادت خود ایک غیر محسوس قوی قدرت ہے جو انسانوں کو اچھائی یا برای کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے ۔
انسان کا کسی بھی چیز کا عادی اور اس سے مانوس ہوجانا انسانی فطرت اورطبیعت کے مانندآدمی کو اسی طرف جذب کرتا ہے، کہ گویا اس مسئلہ میں انسان کے پاس کوئی اختیار و ارادہ نہیں ہے اور پروردگارعالم نے انسان کی فطرت میں اس قدرت کو و دیعت کیا ہے تاکہ وہ اچھائیوں کا عادی بننے میں بغیر کسی زحمت کے اور لاشعوری طور پر اس کی طرف جذب ہو، اور گندگی و برائیوں سے دوری اختیار کرے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام عادت کو انسان کی فطرت ثانیہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”العادۃ طبع ثان (۲) عادت طبیعت ثانیہ ہے ۔
یہ مختصر کلام بلند معنی و حقائق پر مشتمل ہے اس روایت کی بنا پر جس طرح انسان اپنی فطری اور طبیعی خواہش کی بناپرقدم آگے بڑھاتا ہے اس طرح ان چیزوں کی طرف چل پڑتا ہے جس کا وہ عادی ہوچکا ہے ۔
انسان کو چاہئے کہ اپنی اس عظیم قدرت کو صحیح راستہ اور گرانقدر مقاصد میں استعمال کرے اور اپنے آپ کو بری اور گندی عادتوں میں مبتلا ہونے سے بچائے۔
افسوس ہمارا سماج صحیح قیادت نہ ہونے ، اور ہدایت کرنے والے کے اندرایسی قدرت کہ جس کی بنا پر وہ سماج کو اخلاقی فضائل اور انسانی صفات سے آراستہ و پیراستہ کرسکے کے فقدان کی وجہ سے فردی اور اجتماعی غلط عادتوں میں گرفتار ہو گیا ہے۔
اجتماعی عادت کی قدرت فردی عادت کی قدرت سے کہیں زیادہ ہے اور جس چیز کا پورا معاشرہ عادی بن چکا ہو اس کی طرف کسی کوبھی جذب کرنا بہت ہی آسان ہے ۔
اور ایک نہایت کریہہ عادت جس کی طرف معاشرہ نے ہمیں کھینچا ہے اور اپنی قید میں ہمیں جکڑا ہے وہ جیسے گذرجائے گذارنا اور موجود ہ صورت حال کا عادی بن جانا اور حیات عطا کرنے والے مستقبل کے متعلق نہ سوچنا ہے ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ اور اہل بیت علیہم السلام نے انتظار کے مسئلہ کو بیان کرکے اور اس کے متعلق لوگوں میں شوق پیدا کرکے عوام کو جس حالت میں ہیں اس میں پڑے رہنے اور اس کا عادی بننے کے متعلق آگاہ فرمایا ہے اور مسئلہ انتظار بیان فرماکر انھیں امید اور مستقبل کی طرف قدم بڑھانے کی دعوت دی ہے ۔
افسوس جن افراد کا وظیفہ تھا کہ عوام تک یہ پیغام پہنچائیں ،انھوں نے اس اہم مسئلہ میں کوتاہی کی ہے اور اس کی بنا پر لوگوں نے بھی جس حالت میں ہیں اسی میں پڑے رہنے کی عادت کرلی ہے اور مستقبل میں تابندہ اورروشن دنیا پانے کے لئے کوشش نہیں کی ہے اور کمال افسوس ہے کہ غیبت ابھی تک باقی ہے ۔
ابھی بھی ہمارے سماج کی اکثریت ایک طرح کی سماجی عادت” ظہور امام (عج)کے مسئلہ سے غفلت“ کا شکار ہے اور قانون وراثت کی دلیل کی بنا پراس نے اسے ماضی کی نسلوں سے ترکہ میں لیا ہے جس کی بنا پر ہمارا سماج آج بھی جمود کا شکار ہے جب کہ اگر کو ئی سماج غلط عادتوں کو ترک کردے اور خودکو انسانی قیمتی صفات سے آراستہ کرلے تووہ بلند مقام حاصل کر سکتاہے۔
حضرت امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
بغلبۃ العادات الوصول الی اشرف المقامات۔ (۳)
عادات پر غلبہ کے ذریعہ انسان عالی اور بلند مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔
ہمارے سماج کو چاہئے کہ اپنے اندر انتظار کی حالت پیدا کرے اور منجی عالم حضرت بقیت اللہ ارواحنا فداہ کے لئے دعا کرکے عصر غیبت کی تیر گی سے غفلت کی دیرینہ عادت کو ترک کرے اور دل وجان سے امام عصر (عج) کی حکومت عدل کے قائم ہونے کے لئے بارگاہ پروردگارمیں دعا کرے۔

اپنی فکری روش تبدیل کریں

روحی پیش قدمی اور فکری تغیرکے ذریعہ اپنے اندر خاص تبدیلیاں پیدا کریں اور وہ افراد جو امام زمانہ(عج ) اور اپنے سید وسردارسے غافل ہیں اپنے راستہ کو جدا کریں اور یقین رکھیں کہ جس طرح جسمانی باپ کی نسبت لا پرواہی اور غفلت بڑا گناہ ہے اسی طرح معنوی باپ کی نسبت لاپرواہی اور بے توجہی بھی بہت ہی عظیم گناہ ہے اور یہ نہایت تاریک انجام کا باعث ہوگی۔
اور اگر ابھی تک امام عصر ارواحنافداہ کی نسبت غافل رہے ہیں اور آنحضرت(عج) کے حیات بخش ظہور کی فکر میں نہیں رہے ہیں ، اگرابھی تک امام عصرکے ظہور کے باعظمت دن کے آنے کے لئے دعا کرنے والوں میں نہیں تھے ، اگر ابھی تک ہمیں علم نہیں تھا کہ امام زمانہ اور اپنے مولاو آقا کی نسبت ہمارا فریضہ کیاہے تو اس وقت ہم کو اس حقیقت کاعلم ہوگیا اور ہم اچھی طرح واقف ہوگئے کہ غیبت کے زمانہ میں لوگوں کا شرعی وظیفہ اور زیادہ سنگین ہے اور خود کو غفلت سے نجات دےتے ہوے ایک مردانہ ارادے اور مستحکم عزم کے ساتھ اپنے ماضی کا جبران کریں اور حضرت بقیت اللہ کے انتظار کی راہ میں تلاش و کوشش کے لئے قدم بڑھائیں اور ہمیں علم ہونا چاہئے کہ ولایت کو چاہنے والوںاور اس سے محبت کرنے والوں کی نسبت آنحضرت (عج)کا لطف باعث ہوگا کے گذشتہ معاف کردیاجائے اور آنحضرت کا مہربان قلب ہماری غلطیوں سے چشم پوشی کرلے ۔
کیا حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ان تمام مظالم و ستم کے بعد نہیں فرمایا :
لاتثریب علیکم الیوم یغفراللہ لکم و ھوارحم الر احمین (۴)
آج تمہارے لئے کوی سرزنش نہیں ہے پروردگار عالم تمہیں بخش دیگااور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
ہم کو یقین ہونا چاہئے کہ انسان کی عظیم روح اس لئے نہیں ہے کہ مادی اور دیگر بے اہمیت مسائل سے وابستہ ہو بلکہ اسے اس لئے خلق کیا گیا ہے کہ معنوی مسائل سے آشنا ہو پرور دگار عالم اور اس کے جانشینوںکو پہچانے اور الہی مسائل کی طرف راغب ہو یہی انسان کی خلقت کا ہدف ہے کیا زیبا ہے جو انسان سید بحرالعلوم اور مرحوم شیخ انصاری کی طرح امام عصرسے رابطہ پیدا کر سکے وہ اپنی روح کو مادی افکار میںغرق کرکے اپنے وجود کو غفلت کی قید و بندمیں جکڑدے؟
کیا شائستہ ہے وہ انسان جو خاندان وحی کی شناخت کے باعث معنوی فضا میں پرواز کرے وہ اپنے بال وپر توڑکر قید خانہ دنیا میں خود کو شیاطین کا اسیر بنالے ؟کیا شائستہ ہے انسانوںکی اربوں آبادی کے درمیان پورے عالم میں معدودے چند افراد عصر غیبت کے کمر شکن مفاسد سے آشنا ہوں ؟کیوں تمام انسان اپنی انسانی قدر سے با خبر نہ ہوں ؟ اور نہ ہی انھیں یہ علم ہو کہ صرف اس صورت میں ان کی قدرو منزلت ہے کہ جب اس دنیا میں اپنی توجہ پروردگار عالم اور اس کے جانشین کی طرف متمرکز کریں ؟
اگر سارے انسان ایسے مقام کی لیاقت نہیں رکھتے اور یہ مقام ایک خاص گروہ کا ہے تو ہم اور آپ کیوں اس جماعت میں نہ ہوں ؟
کاروان رفت و تو در خواب و بیابان در پیش
کَی روی؟ رہ زکہ پرسی؟ چہ کنی ؟ چون باشی

عالم ہستی کے امیر کی جانب

جو بھی سچی طرح امام عصر ارواحنا فداہ کی تلاش میں ہو گا اور آنحضرت (عج )کی راہ میں خدمت کرے گا اور اس ماہ عالم کے ظہور میں تعجیل کے لئے کوشش کرے گا تو اسے یقین رکھنا چاہئے کہ بالاخر وہ راستہ اسے ایسی جگہ لے جائے گا جہاں اس محبوب عالم کی طرف ایک دریچہ کھلتا ہو ،لہٰذا آنحضرت (عج)کی نسبت مدد اور فدا کاری کہ جس کے ہاتھوں کو عصر غیبت نے اسی طرح باندھ ڈالا ہے جیسے دشمنوں نے اولین مظلوم ہستی حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے گلے میںریسمان ڈالا اور ان بزرگوار کے ہاتھوں کو باندھ دیا تھا )لہٰذا خاموش نہ بیٹھیں اور آنحضرت(عج )کے ظہور میںتعجیل کے لئے کوشش کر کے غیبت کی رسی کا کم از کم ایک تار تو ڑ دیں ۔
اطمینان رکھیئے اگر کوئی آنحضرت (عج) کی راہ میں کوشش اور فداکاری کرے اور کسی فریب کاری کی فکر میں نہ ہو تو بلا شبہ اس پر حضرت (عج)کی عنایت ہوگی اور آنحضرت (عج)ایک کلام ،یا پیغام، یا ایک نگا ہ کے ذریعہ ضرور اس کے قلب کو شاد کریں گے اس لئے کہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی کسی کی حقیقی تلاش میں ہو اور اس کے لئے کوشش کرے اور سر انجام اپنے کامل مقصود یا حد اقل کچھ حصہ بھی نہ پائے ۔
حضرت امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :”من طلب شیئانالہ او بعضہ (۵) جو کسی چیز کی تلاش میں ہووہ اسے پوری طرح یا اس کا کچھ حصہ ضرور پاے گا ۔
آپ اطمینان اور یقین رکھیں کہ یہ اگر چہ غیبت کا تیرہ و تاریک دورہے ولایت حضرت بقیت اللہ ارواحنا فداہ کے ظاہر ہونے کا زمانہ ابھی تک نہیں آیا ہے لیکن اس کے باوجود آنحضرت (عج) دائرہ امکان کے قطب اور امیر ہستی ہیں اور آنحضرت(عج)کی ولایت مطلقہ نے سارے عالم کواپنے اندر لے رکھا ہے ۔
آنحضرت(عج) کی زیارت میں پڑھتے ہیں:
السلام علیک یا قطب العالم ․
اے عالم ہستی کے قطب آپ پر ہمارا سلام ہو۔
غیبت کے تاریک دور میں اسی طرح ظہور کے نورانی زمانہ میں اس مقدس وجود کے نور کے زیر سایہ اس کائنات کی ہر شئی اپنی حیات کو جاری رکھے ہوے ہے اوررکھے گی ، اور آنحضرت (عج) کی امامت و رہبری کی ممنون کرم ہے اور نہ صرف اس عالم کے مادی ذرات بلکہ جومسیحا نفس ہیں وہ بھی ان بزرگوار کے حکم اور فرمان کے تابع ہیں بلکہ خود حضرت عیسی علیہ السلام کو دم مسیحائی بھی آنحضرت (عج )اور ان کے اباؤ اجداد طاہرین علیہم السلام کے طفیل میں حاصل ہے اور نہ صرف ظہور کے زمانہ میں بلکہ اس وقت بھی آنحضرت کی امامت کے پرچم کے زیر سایہ فرائض کو انجام دینے میں مشغول ہیں ۔
حضرت(عج ) کی زیارت میں پڑھتے ہیں :
السلام علیک یا امام المسیح ․
اے مسیح کے امام آپ پر سلام ہو ۔
یہ امامت و رہبری حضرت (عج)کے ظہورکے پرشکوہ زمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس وقت بھی حضرت عیسی علیہ السلام اپنے اس عظیم مقام کے باوجود ،آنحضرت (عج )کی امامت و رہبری کی اتباع اور ان کے نقش قدم پر گامزن ہونے پر مفتخر ہیں ۔
تمام نجیب ونقیب افراد اور اولیاء خدا اتباع نفس سے دست بردار ہو گئے ہیں اور عمل میں کوئی حیلہ درکار نہیں ہے اور انھیں پروردگار عالم کے نزدیک جو قدرو اہمیت حاصل ہوئی ہے، انھوں نے اس زمانے میں مقام نورانیت اور نور عالم ہستی کی راہ یا دریچہ پالیا ہے ، اورامام عصر ارواحنا فداہ انہیں برتر افراد کی موجودگی سے غیبت کی غربت کی تلافی کرتے ہیں روایت میں ہم پڑھتے ہیں:
ومابثلاثین من وحشۃٍ (۶)
(حقیقی چاہنے والوں میں )تیس افراد کے ہونے کے بعد آنحضرت (عج)کے لئے تنہائی نہیں ہے ۔
گذشتہ مطالب کے بیان کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ غیبت کا قطعی یہ معنی نہیں ہے کہ موجودات عالم سے حضرت بقیت اللہ ارواحنافدا ہ کی غیبی مدد کو اٹھالیا گیا ہے اور آنحضرت علیہ السلام کسی کی دستگیری نہیں فرماتے اور نہ ہی کسی پر نور ونورانیت کا دریچہ واہوتا ،بلکہ جس طرح ہم نے عرض کیاوہ افراد جوصداقت کے ساتھ آنحضرت کی طرف قدم بڑھاتے ہیں اور امام کے معارف کے بحر بیکراں سے مستفید ہونے کے لئے امام عصرارواحنافداہ کے ظہور کے پرشکوہ دور کے آنے کے لئے لحظہ شماری کر رہے ہیں وہ حضرت کے پیغام یا ایک نگاہ کے ذریعہ اپنے قلب کو استوار سے استوار تر کر لیتے ہیں ہاں اس طرح کے افراد کسی حیلہ ومکر کی فکر میں نہیں ہیں اور ہمارے لئے ان کا پیغام یہ ہے ۔
فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ إِنَّکَ بِالْوٰادِی الْمُقَدَّسِ طُوٰی (۷) اپنی جوتی اتار دو اور دیکھو ابھی تک اپنے پاؤں کو کس طرح تکلیف دی اوراس طرح امیر عالم ہستی ،اورقطب عالم امکانی تک پہنچنے سے باز رہے ہیں ۔
افسوس ہم میں سے بعض افراد نہ صرف حیلہ ومکر کواپنے آپ سے دور نہیں کرتے بلکہ دوسروں میں بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور انھیں بھی آزردہ کرتے ہیں اس طرح کے افراد نیش زبان سے زیادہ اپنے احباب کے دل میں خنجر چبھاتے ہیں،اس لئے کہ شیطانی سر گوشیوںکی بنا پر ہر ایک کو راہ راست سے باز رکھنا چاہتے ہیں،گویا انھیں اس کا علم نہیں ہے کہ آنحضرت(عج) کی راہ کی مخالفت آنحضرت (عج)کے واقعی دوستوں سے دشمنی اوران بزرگوار سے دشمنی ہے کیا حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں نہیں فرمایا ہے:
” اٴصدقاوٴک ثلاثۃ،واٴعداوٴک ثلاثۃ، فاٴصدقاوٴک صدیقک، وصدیق صدیقک، وعدوّ عدوّک، واٴعداوٴک عدوّک، وعدوّ صدیقک، وصدیق عدوّک “ (۸)
تمہارے تین دوست ہیںاور تین دشمن ہیں ۔لیکن دوست : ۱۔خود تمہارے دوست ، ۲۔ تمہارے دوست کے دوست ،۳۔تمہارے دشمن کا دشمن۔
اور دشمن: ۱ ۔ خود تمہارے دشمن ، ۲۔ تمہارے دوست کے دشمن ، ۳۔تمہارے دشمن کا دوست۔
لہٰذا کیا امام عصر(عج) کے دوستوں سے دشمنی کرنا ان بزگوار کی مخالفت نہیں ہے ؟
اس گفتگو کو ترک کریں اس لئے کہ یہ سب کو اچھی نہیں لگے گی اس وقت ریگ اور ریگزار زیادہ ہیں اور تپتے ہوے بیابانوں میں ریگ گرم قابل شمار نہیں ہیں اور قحط اور سوکھے نے اپناکریہہ چہرہ ہر ایک پر ظاہر کر دیا ہے اور بارش کی فکر نے ہر ایک کوپریشان کر رکھا ہے اور کچھ نماز استسقاء پڑھنے کے لئے چل پڑے ہیں ۔
لیکن آب رحمت کی غیبت کو سیکڑوں سال گذر چکے ہیں اور لوگ اس کے مادی و معنوی فائدے سے محروم ہیں افسوس وہاں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے ،بارش کی فکر میں ہیں جبکہ بارش آنحضرت (عج)کے وجود بابرکت کی بنا پر ہوتی ہے ۔
کیا ہم زیارت جامعہ میں نہیں پڑھتے ہیں ،بکم ینزّل الغیث ،آپ کی وجہ سے باران رحمت آتی ہے ، لیکن ایسے ہی تھااور ہے کہ اصل کو بھلا دیتے ہیں اور فرع کی تلاش میں رہتے ہیں بالکل اسی طرح کہ ہم مسبب الاسباب کو فراموش کردیتے ہیں اور اسباب کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔
 

۱)۔ اس کے متعلق محترم موٴلف نے ایک کتاب بنام ”نگاہی بہ آئندہ جہان“تحریر فرمایا ہے․(مترجم)
۲)۔ شرح غرر الحکم ج ۱ص ۱۸۵
۳)۔ شرح غررالحکم ج۳ ص ۲۲۹
۴ )۔ سورئہ یوسف آیت ۹۲
۵)۔ شرح غرر الحکم ج۵ص۳۰۵
۶)۔ بحارالانوار۵۲/۱۵۳
۷)۔ سورئہ طہ آیت۱۱
۸)۔ نہج البلاغہ کلمات قصار ۲۹۵