حضرت امام رضا علیہ السلام کے مختصر حالات
آٹھویں امام کا نام:۔ امام علی رضا علیہ السلام
تاریخ ولادت:۔ ۱۱/ ذیقعدہ
آپ کے والد محترم کا نام :۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
آپ کی والدہ محترمہ کا نام :۔ جناب نجمہ خاتون
امام رضا علیہ السلام ،اللہ کے نور کاٹکڑا،اس کی رحمت کی خوشبو اور
ائمہ طاہرین ؑکی آٹھویںکڑی ہیںجن سے اللہ نے رجس کو دوررکھااوران کو اس
طرح پاک وپاکیزہ رکھاجو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔ مامون نے ائمہ
طاہرین ؑکے متعلق اپنے زمانہ کے بڑے مفکروادیب عبداللہ بن مطرسے سوال
کرتے ہوئے کہا: اہل بیت علیہم السلام کے سلسلہ میںتمھاری کیا رائے ہے ؟
عبداللہ نے ان سنہرے لفظوں میں جواب دیا:میں اس طینت کے بارے میں
کیاکہوں جس کا خمیر رسالت کے پانی سے تیار ہوااوروحی کے پانی سے اس کو
سیراب کیاگیا؟ کیا اس سے ہدایت کے مشک اور تقویٰ کے عنبر کے علاوہ کوئی
اورخوشبو آسکتی ہے ؟
ان کلمات نے مامون کے جذبات پر اثرکیا اس وقت امام رضاعلیہ السلام بھی
موجود تھے، آپ نے عبداللہ کامنھ موتیوں سے بھر دینے کا حکم صادر فرمایا
۔ ۱
وہ تمام اصلی ستون اور بلند و بالا مثالیں جن کی امام عظیم سے تشبیہ دی
گئی ہے، آپ کے سلوک ، ذات کی ہو شیاری اور دنیا کی زیب و زینت سے رو
گردانی کرنا سوائے اُن ضروریات کے جن سے انسان اللہ سے لولگاتا ہے، یہ
سب اسلام کی دولتوں میں سے ایک دولت ہے۔۔۔ہم ان میں سے بعض خصوصیات
اختصار کے طور پر بیان کرتے ہیں:
آپ کی پرورش
امام علیہ السلام نے اسلام کے سب سے زیادہ باعزت وبلند گھرانہ میں
پرورش پائی ،کیونکہ یہ گھر وحی کا مرکز ہے ۔۔۔
یہ امام موسیٰ بن جعفر علیہ السلام کا بیت الشرف ہے جو تقویٰ اور ورع
وپرہیزگاری میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بیت الشرف کے مشابہ ہے
،گویا یہ بیت الشرف عبادت اور اللہ کی اطاعت کے مراکز میں سے تھا، جس
طرح یہ بیت الشرف علوم نشرکرنے ا ور اس کو لوگوں کے درمیان شائع کرنے
کا مرکزتھا اسی بیت الشرف سے لاکھوں علماء ، فقہائ،اور ادباء نے تربیت
پائی ہے ۔
اسی بلند وبالا بیت الشرف میں امام رضا علیہ السلام نے پرورش پائی اور
اپنے پدر بزرگوار اور خاندان کے آداب سے آراستہ ہوئے جن کی فضیلت
،تقویٰ اور اللہ پر ایمان کے لئے تخلیق کی گئی ہے ۔
آپ کا عرفان اور تقویٰ
امام رضا علیہ السلام کے عرفان کی خصوصیت یہ تھی کہ آپ حق پر
پائیدارتھے، اور آپ نے ظلم کے خلاف قیام کیا تھا، اس لئے آپ مامون
عباسی کو تقوائے الٰہی کی سفارش فرماتے تھے اور دین سے مناسبت نہ رکھنے
والے اس کے افعال کی مذمت فرماتے تھے، جس کی بناء پر مامون آپ کا دشمن
ہوگیااور اس نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیااگرامام ؑ اس کی روش کی
مذمت نہ کرتے جس طرح کہ اس کے اطرافیوں نے اس کے ہرگناہ کی تائید کی تو
آ پ کا مقام اس کے نزدیک بہت عظیم ہوتا ۔اسی بناء پرمامون نے بہت جلد
ہی آپ کو زہر دے کر آپ کی حیات ظاہری کا خاتمہ کردیا۔
آپ کے بلند وبالااخلاق
امام رضا علیہ السلام بلند و بالا اخلاق اور آداب رفیعہ سے آراستہ تھے
اور آپ کی سب سے بہترین عادت یہ تھی کہ جب آپ دسترخوان پر بیٹھتے تھے
تو اپنے غلاموںیہاںتک کہ اصطبل کے رکھوالوںاور نگہبانوں تک کو بھی اسی
دستر خوان پر بٹھاتے تھے۔ ۲
ابراہیم بن عباس سے مروی ہے کہ میں نے علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کو
یہ فرماتے سنا ہے :
ایک شخص نے آپ سے عرض کیا :خداکی قسم آپ لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے
ہیں ۔۔۔
امام علیہ السلام نے یہ فرماتے ہوئے جواب دیا:اے فلاں! مت ڈر،مجھ سے وہ
شخص زیادہ اچھا ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرے اور اس کی
سب سے زیادہ اطاعت کرے ۔خدا کی قسم یہ آیت نسخ نہیں ہوئی ہے۔
امام علیہ السلام اپنے جدرسول اعظم کے مثل بلند اخلاق پر فائز تھے جو
اخلاق کے اعتبار سے تمام انبیاء سے ممتاز تھے ۔
آپ کا زہد
امام علیہ السلام نے اس پرمسرت اورزیب وزینت والی زندگی میں اپنے آباء
عظام کے مانند کردار پیش کیا جنھوںنے دنیا میں زہداختیارکیا،آپ کے
جدبزرگوارامام امیرالمومنین علیہ السلام نے اس دنیاکو تین مرتبہ طلاق
دی جس کے بعد اس سے رجوع نہیں کیاجاسکتا۔
محمد بن عباد نے امام کے زہدکے متعلق روایت کی ہے :امام علیہ السلام
گرمی کے موسم میں چٹائی پر بیٹھتے ، سردی کے موسم میں ٹاٹ پربیٹھتے تھے
،آپ سخت کھر درا لباس پہنتے تھے، یہاں تک کہ جب آپ لوگوں سے ملاقات کے
لئے جاتے تو پسینہ سے شرابور ہوجاتے تھے ۔ ۳
دنیا میں زہد اختیار کرنا امام علیہ السلام کے بلند اور آشکار اور آپ
کے ذاتی صفات میں سے تھا،تمام راویوں اور مورخین کا اتفاق ہے کہ جب
امام کو ولی عہد بنایاگیا تو آپ نے سلطنت کے مانند کوئی بھی مظاہرہ
نہیں فرمایا،حکومت وسلطنت کو کوئی اہمیت نہ دی،اس کے کسی بھی رسمی موقف
کی طرف رغبت نہیں فرمائی، آپ کسی بھی ایسے مظاہرے سے شدیدکراہت کرتے
تھے جس سے حاکم کی لوگوں پر حکومت وبادشاہت کا اظہار ہوتا ہے چنانچہ آپ
فرماتے تھے :
لوگوں کاکسی شخص کی اقتداکرنااس شخص کے لئے فتنہ ہے اور اتباع کرنے
والے کےلئے ذلت و رسوائی ہے ۔
آپ کے علوم کی وسعت
امام رضا علیہ السلام اپنے زمانہ میں سب سے زیادہ اعلم اور افضل تھے
اور آپ نے ان (اہل زمانہ) کو مختلف قسم کے علوم جیسے علم فقہ،فلسفہ
،علوم قرآن اور علم طب وغیرہ کی تعلیم دی۔ہروی نے آپ کے علوم کی وسعت
کے سلسلہ میں یوںکہا ہے :میں نے علی بن موسی رضا علیہ السلام سے زیادہ
اعلم کسی کو نہیں دیکھا، مامون نے متعددجلسوںمیں علماء ادیان ،فقہاء
شریعت اور متکلمین کو جمع کیا،لیکن آپ ان سب پر غالب آگئے یہاں تک کہ
ان میں کوئی ایسا باقی نہ رہا جس نے آپ کی فضیلت کا اقرار نہ کیاہو،اور
میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے: ''میں ایک مجلس میں موجود تھا اور
مدینہ کے متعدد علماء بھی موجود تھے ،جب ان میں سے کوئی کسی مسئلہ کے
بارے میں پوچھتا تھا تو اس کو میری طرف اشارہ کردیتے تھے اور مسئلہ
میرے پا س بھیج دیتے تھے اور میں اس کا جواب دیتا تھا ''۔ ۴
ابراہیم بن عباس سے مروی ہے :میں نے امام رضا علیہ السلام
کونہیںدیکھامگریہ کہ آپ نے ہر سوال کا جواب دیا ہے ۔ ۵ ،میں نے آپ کے
زمانہ میں کسی کو آپ سے اعلم نہیں دیکھااور مامون ہر چیز کے متعلق آپ
سے سوال کرکے آپ کا امتحان لیتاتھااورآپ اس کا جواب عطافرماتے تھے ۔ ۶
مامون سے مروی ہے :میں اُن (یعنی امام رضا علیہ السلام )سے افضل کسی کو
نہیں جانتا۔ ۷
بصرہ،خراسان اور مدینہ میں علماء کے ساتھ آپ کے مناظرے آپ کے علوم کی
وسعت پردلالت کرتے ہیں ۔دنیاکے جن علماء کو مامون آپ کا امتحان لینے کے
لئے جمع کرتا تھا وہ ان سب سے زیادہ آپ پر یقین اور آپ کے فضل وشرف کا
اقرار کرتے تھے ،کسی علمی وفدنے امام ؑسے ملاقات نہیں کی مگر یہ کہ اس
نے آپ کے فضل کا اقرار کرلیا۔مامون آپ کو لوگوںسے دور رکھنے پر مجبور
ہوگیاکہ کہیں آپ کی وجہ سے لوگ اس سے بدظن نہ ہوجائیں۔
اقوال زرین
امام علیہ السلام نے متعدد غررحکم،آداب ،وصیتیںاوراقوال ،ارشاد فرماتے
جن سے لوگ استفادہ کرتے تھے یہ بات اس چیز پردلالت کرتی ہے کہ آپ اپنے
زمانہ میں عالم اسلامی کے سب سے بڑے استاد تھے اور آپ نے حکمت کے ذریعہ
مسلمانوں کی تہذیب اور ان کی تربیت کے لئے جدوجہد کی ہے ہم ان میں سے
بعض چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
عقل کی فضیلت
اللہ نے انسان کو سب سے افضل نعمت عقل کی دی ہے جس کے ذریعہ انسان اور
حیوانات کو جدا کیا جاتا ہے اور امام علیہ السلام نے بعض احادیث میں
عقل کے متعلق گفتگو کی ہے جیسے :
۱۔امام رضا علیہ السلام کا فرمان ہے :''ہر انسان کا دوست اس کی عقل ہے
اور جہالت اس کی دشمن ہے'' ۔ ۸
یہ حکمت آمیز کلمہ کتنازیباہے کیونکہ عقل ہرانسان کا سب سے بڑادوست ہے
جو اس کو محفوظ رکھتی ہے اور دنیوی تکلیفوںسے نجات دلاتی ہے اور انسان
کا سب سے بڑا دشمن وہ جہالت ہے جو اس کو اس دنیا کی سخت مشکلات میں
پھنسادیتی ہے ۔
۲۔امام علیہ السلام کافرمان ہے :''سب سے افضل عقل انسان کا اپنے نفس کی
معرفت کرنا ہے ''۔ ۹
بیشک جب انسان اپنے نفس کے سلسلہ میں یہ معرفت حاصل کرلیتاہے کہ وہ
کیسے وجود میں آیا اوراس کا انجام کیا ہوگا تو وہ عام اچھائیوں پر
کامیاب ہوجاتا ہے اور وہ برائیوںکو انسان سے دور کردیتا ہے اور اس کو
نیکیوںکی طرف راغب کرتا ہے اور یہی چیز اس کے خالق عظیم کی معرفت پر
دلالت کرتی ہے ۔
جیساکہ حدیث میں وارد ہوا ہے :''من عرف نفسہ فقد عرف ربہ''۔
''جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کی معرفت حاصل کرلی''۔
آپ کے اقوال
امام رضا علیہ السلام کے حکمت آمیز کلمات قصارچمکتے ہوئے ستاروں کی طرح
حکمتوں سے پُر ہیں :
۱۔امام علیہ السلام نے فرمایا ہے :''اگر کو ئی ظالم و جابر بادشاہ کے
پاس جائے اور وہ بادشاہ ان کو اذیت و تکلیف دے تو اس کو اس کو ئی اجر
نہیں ملے گا اور نہ ہی اِس پر صبر کرنے سے اس کو رزق دیا جا ئے گا ''۔
۱۰
۲۔امام رضا علیہ السلام کا فرمان ہے :''لوگوں سے محبت کرنا نصف عقل ہے
''۔ ۱۱
۳۔امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :''لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا
جس میں عافیت کے دس جزئہوں گے جس میں نو حصے لوگوں سے الگ رہنے میں ہوں
گے اور ایک حصہ خا مو شی میں ہو گا ''۔ ۱۲
۴۔امام رضا فرماتے ہیں :''بخیل کے لئے چین و سکون نہیں ہے اور نہ ہی
حسود کے لئے لذت ہے ،ملو ل رنجیدہ شخص کے لئے وفا نہیں ہے اور جھوٹے کے
لئے مروَّت نہیں ہے ''۔ ۱۳
۵۔امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :''جس نے مو من کو خوش کیا خدا
قیامت کے دن اُس کو خو شحال کرے گا''۔ ۱۴
۶۔امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :''مو من، مومن کاسگا بھا ئی ہے
،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھائی پر الزام لگایا ملعون ہے ، ملعون
ہے جس نے اپنے بھا ئی کو دھوکہ دیا ، ملعون ہے ،ملعون ہے جس نے اپنے
بھا ئی کو نصیحت نہیں کی ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھائی کے
اسرارسے پردہ اٹھایا ،ملعون ہے ملعون ہے جس نے اپنے بھا ئی کی غیبت کی
ہے ''۔ ۱۵
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱۔حیاۃالامام رضا ؑ، جلد ۱،صفحہ ۱۰۔
۲۔نورالابصار، صفحہ۱۳۸۔
۳۔عیون اخبار الرضا ؑ،جلد ۲صفحہ ۱۷۸۔مناقب ،جلد ۴،صفحہ ۳۶۱۔
۴۔کشف انعمہ، جلد۳ صفحہ۱۰۷۔
۵۔ایک نسخہ میں الاعلم آیاہے۔
۶۔ حیاۃ الامام الجواد ؑصفحہ۴۲۔
۷۔اعیان الشیعہ ،جلد۴ صفحہ۲۰۰۔
۸۔اصول کافی ،جلد۱ صفحہ۱۱ ،وسائل، جلد۱۱ صفحہ۱۶۱۔
۹۔اعیان الشیعہ ،جلد۴ صفحہ۱۹۶۔
۱۰۔تاریخ یعقوبی ،جلد ۳صفحہ ۱۸۱۔
۱۱۔بحارالانوار ،جلد ۷۸ صفحہ ۳۳۵۔
۱۲۔تحف العقول ،صفحہ ۴۴۶۔
۱۳۔تحف العقول ،صفحہ ۴۴۶۔
۱۴۔وسائل الشیعہ ،جلد ۱۲ صفحہ ۵۸۷۔
۱۵۔وسائل الشیعہ ،جلد ۸ صفحہ ۵۶۳۔

|
|