مختصر حالات امام محمد باقر علیہ السلام

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام جناب رسول خداخاتم الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ کے پانچویں حقیقی جانشین اور ہم شیعوں کے پانچویں امام ہیں جو منصوص من اللہ ہیں ۔یعنی انھیں اللہ نے اپنے نبی کی جانشینی کے لئے انتخاب کیا ہے ۔اور سلسلہ عصمت کی ساتویں کڑی ہیں ۔آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام زین العابدین ابن الحسین علیہما السلام ہیں جو ہمارے چوتھے امام ہیں ۔ آپ کی مادر گرامی جناب فاطمہ بنت امام حسن علیہ السلام ہیں ۔
آپ کی ولادت باسعادت پہلی رجب المرجب ۵۷ ھ بروز جمعہ مدینہ منور ہ میں ہوئی ۔ولادت کے بعد آپ نے قبلہ کی طرف ہوکر آسمان کی جانب رخ کیا اور تین مرتبہ چھینکنے کے بعد خدا وند کریم کی حمد و ثنا بجالائے ۔آپ کے دست مبارک سے ایک دن اور ایک رات مسلسل نور ساطع رہا ۔آپ ختنہ شدہ ،ناف بریدہ اور دیگر تمام پاک و پاکیزہ اوصاف کے ساتھ متولد ہوئے ۔
آپ کا اسم مبارک ” محمد “ تھا ۔آپ کی کنیت ابوجعفر تھی ۔آپ کے القاب بہت سے ہیں ان میں مشہور یہ ہیں باقر ،شاکر ،ہادی ۔آپ اپنے اباو اجدا د کی طرح امام منصوص من اللہ ،معصوم ،اعلم زمانہ اور افضل کائنات تھے ۔آپ کے بارے میں غیروں کا نظریہ یہ ہے :
ابن حجر مکی لکھتا ہے : آپ عبادت ،زہد اور علم وغیرہ میں اپنے پدربزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے ۔
محمد بن طلحہ شافعی لکھتاہے :آپ کا علم و زہد ،تقویٰ و پر ہیز گاری ،طہارت قلب۔ اور بہت سے دیگر صفات حمیدہ کی اس بلندی پر فائز تھے کہ یہ صفات خودآپ کی طرف نسبت پانے سے ممتاز ہو گئیں۔
نسائی اور زہری نے آپ کو ثقہ اور فقیہ لکھا ہے اور فقہا کی ایک بڑی جماعت نے آپ سے روایت بھی نقل کی ہے ۔
عطا بیان کرتا ہے کہ میں نے علماءکو نہیں دیکھا کہ وہ علم کے میدان میںکسی کے سامنے اپنے سر کو خم کریںاوراپنے آپ کو چھوٹا سمجھیں ۔مگر جس طرح وہ امام محمد باقر علیہ السلام کے سامنے اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتے تھے اور اپنے سرکو خم کرتے تھے ۔میں نے حَکَم جیسے عالم کو آپ کے سامنے سجدہ ریز پایا ۔
روضۃ الصفا ءکے مصنف کا کہنا ہے کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے فضائل تحریر کرنے کے لئے الگ سے ایک ضخیم کتاب کی ضرورت ہے ۔