قطعات
| عریضہ |
بڑاہی سوز ہے جان وفا میری کہانی
میں
نہ جانے کتنے پتھر بہہ گئے غم کی روانی میں
عریضے میں اگر فرقت کی ساری داستاں لکھ دوں
سلگ اٹھے گا دریا ، آگ لگ جائے گی پانی میں
صہبا سرسوی |
 |
| آخری وصیت |
جو لکھ رہے ہو تو سطریں بھلی بھلی لکھ دو
بس ایک لفظ کو بالکل جلی جلی لکھ دو
مرے کفن کو مرے آنسوؤں سے تر کرکے
تمام خاک شفا سے علیؑ علیؑ لکھ دو
زاہد جلالپوری |
 |
| |
حسیں چاند فلک پر عیاں تو ہونے دو
امام آئیں گے وقت اذاں تو ہونے دو
ہر اک فقیر کی بھر دیں گے جھولیاں آکر
سمندروں میں عریضہ جمع تو ہونے دو
|
 |
| |
ہے کہتا یہ سورج نہیں مجھ میں جرأت
کہ ڈوبوں علی ؑ کی اجازت سے پہلے
علی ؑکہہ جو دیتے تو پھر سوئے مغرب
نجاتا یہ سورج قیامت سے پہلے
فیروز خاں |
 |
| |
اے نامہ بر خدا کے لئے دیکھ بھال کے
آرماں بھرا عریضہ ہے رکھنا سنبھال کے
پہنچانا احتیاط سے عرض حضور میں
کاغذ پہ رکھ دیا ہے کلیجہ نکال کے |
 |
|
|