شبنم اعظم دیوبندی

چپ ہے ہر ایک آیت قرآں تیرے بغیر

اے باغباں چمن ہے جو ویراں تیرے بغیر
سدرہ نشیں نہ ہوگا غزل خواں تیرے بغیر

نرجس کے پھول حسن چمن کو نکھار دے
ہے سایہئ خزاں میں گلستاں تیرے بغیر

کاغذ کی ناؤ ہے جو رواں دوش آب پر
موجیں نہ بن سکیں گی نگہباں تیرے بغیر

پھر دین حق سے کردے زمانہ کو آشنا
بے دین ہو رہے ہیں مسلماں تیرے بغیر

برج فلک پہ لاکھ درخشاں ہو ماہتاب
روشن نہ ہوگی شام غریباں تیرے بغیر

تو ضو فگن ہے بزم میں دل کو یقین ہے
ہم نے نہیں کیا ہے چراغاں تیرے بغیر

پیش نگاہ مصحف عارض نہیں تیرا
کیوں کر کروں تلاوتِ قرآں تیرے بغیر

کر آکے تو اشارہئ انگشت مرتضی
پلٹے گا پھر نہ مہر درخشاں تیرے بغیر

آجا لئے ہوئے شہ خیبر کی ذوالفقار
ہوگی نہ فتح لشکر ایماں تیرے بغیر

پھر سر اٹھا رہی ہے جہاں میں یزیدیت
ہوگا نہ ختم فتنہ دوراں تیرے بغیر

گر حکم دیں ہمیں تو یزیدان وقت سے
لے لیں قصاص خون شہیداں تیرے بغیر

تو ہے حجاب نور میں کس سے کرے کلام
چپ ہے ہر ایک آیت ِ قرآں تیرے بغیر

شبنم ترے کرم سے ہے گلشن میں ضوفشاں
عزت نہ پاسکا یہ ثناخواں تیرے بغیر