نیر اُترولوی

قصیدہ در مدح مولائے کائنات حضرت علی (ع)

نتیجہ فکر : مولانا ماسٹر حسین علی خاں مرحوم ۔ نیر اُترولوی

بہار آئی ، ترقی پر جنونِ فتنہ ساماں ہے
دل وحشت زدہ پھر مائل سیر بیاباں ہے

چلی باد بہاری زخم تازہ ہو گئے دل کے
کسی کی یاد میں پھر قطرہئ خوں زیب مژگاں ہے

نفس کی آمد و شد میں کھٹک محسوس ہوتی ہے
مگر نشتر بھی پوشیدہ کوئی نزدِ رگِ جاں ہے

غم فرقت نے یہ حالت بنا دی تیرے وحشی کی
پریشاں بال، گرد آلودچہرہ ، چاک داماں ہے

بیانِ قصہ غم ختم کر ، آ ہو ش میں غافل
رجب کی تیرہویں تاریخ ہے عشرت کا ساماں ہے

جہاں میں آج اک فخر مسیحا آنے والا ہے
جدار خانہ حق میں نیا اک در نمایاں ہے

رجب کی تیرہویں کو ہے یہ منظر دید کے قابل
خدا کا گھر ہے دست رحل پیغمبر (ص) پہ قرآں ہے

امیر المومنیں (ع) ، محبوب داور ، نفس پیغمبر(ص)
عصائے پیر ہے ، تیغ جواں ہے ، حرز طفلاں ہے

پیغمبر(ص) نے کہا کہ تذکرہ اس کا عبادت ہے
عداوت کفر ہے اس کی محبت اس کی ایماں ہے

جہاں میں کوئی ثانی تھا نہ اب تک حسن یوسف (ع) کا
مگر یہ بنت اسد (ع) کا چاند رشک ماہ کنعاں ہے

اسی کی رہبری مومن کو پہنچاتی ہے منزل تک
اسی کا اسوہ حسنہ چراغ راہ عرفاں ہے

اسی نے دین کی تبلیغ میں احمد(ص) کی نصرت کی
اسی کی آل سے قائم بہار باغ ایماں ہے

من و سلویٰ ہے جو کی خشک روٹی اس کی نظروں میں
شکستہ بوریہ اس کے لئے تخت سلیماں (ع) ہے