ادارہ

شذرہ

    مجلہ '' مہدی(ع) مشن'' آپ کے سامنے ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ اپنی عزیز زبان اردو میں اسلام پر تحقیقاتی فکرو نظر پیش کرتے رہیں۔دنیا کے بہت سے ملکوں میں اردو بولی ،سمجھی اور پڑھی جاتی ہے ۔ اردو جاننے والے آس پاس کی بہت سی زبانیں جانتے ہیں ۔
    ہم چاہتے ہیں کہ دنیا کے ہر گوشے میں اسلام پر کام کی لہر دوڑ جائے اگر نوجوان حضرات ہمت کریں تو یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔ انگریزوں سے جنگ آزادی لڑنے والی قوم کی نسل ابھی زندہ ہے اسے معلوم ہے کہ برطانیہ نے اور اب امریکہ نے دنیا پر اس لئے پنجے جما رکھے ہیں کہ اقوام عالم کے ضمیر سے غیرت و خودداری چھین لیں ۔ محرومین جہاں کے ذہنوں سے قوت پرواز کی طاقت کو اپنے پرانے اخلاق و افکار کے مصنوعی پَر دے کر انھیں یقین دلائیں کہ تم کچھ نہیں تھے اور تم کچھ نہیں ہو ۔لیکن اب مسلمان انگڑائی لے کر اٹھ چکے ہیں۔ شعور کو مرکزیت اور مرکز سے دراکی و تابناک بخشنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ قرآن و اہلبیت (ع) کے ہوتے ہوئے کوئی گھبرانے کی بات نہیں رہتی، فقط ہمت کی ضرورت ہے ۔
    اگر اسلام اور اسلامیات کا مطالعہ اپنا وتیرہ بنا لیا جائے مگر مشرق و مغرب کی تراوش قلم سے نہیں کہ ان دشمنان اسلام و انسانیت سے جو ایک مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ آدمی کو ڈس چکے ہیں ، جن کے قلم شہد میں زہر گھولنے کے عادی ہیں ۔ آپ اپنے ارباب نظر کی تحریریں پڑھیں اور اگر آپ خود صاحب نظر ہیں تو افکار کی چھان بین کریں ، مگر اسلام اور قرآن کی روشنی میں ۔ اس لئے تھوڑی سی محنت درکار ہوگی اور اللہ نے وعدہ فرمایاہے:
'' والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا''
''جو ہماری راہ میں جہاد کرتے ہیں ہم انھیں اپنی راہوں سے آشنا کرتے ہیں''
    قلم صاحب علم کی تلوار ہے ، قلم ادیبوں کا صور ہے ، قلم صاحب فکر کی زبان گویا ہے ۔ قلم پڑھے لکھے لوگوں کا تشخص قائم کرتا ہے ۔ قلم آدم زاد کے شعور والا شعور کی بیداری و مردگی کی خبر دیتا ہے ہمارے یہاں لکھنے والوں کا قحط نہیں ہے ۔ اسالیب بیان اور اصناف ادب کے ہر موڑ پر ہمارے جوان اور بوڑھے شمعیں روشن کر رہے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کچھ شیریں بیاں ، عمیق الفکر اسلام کا مطالعہ ، اسلام کا فلسفہ اسلام کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیام و سیرت کے لئے بھی کچھ وقت نکالیں ، محبت رسول (ص) و آل رسول (ص) اور مسلمان ہونے کی بنا پر یہ ان کی ذمہ داری ہی نہیں ان پر فرض ہے ۔